الفتح الربانی
مسائل الهبة والهدية— ہبہ اور ہدیہ کے مسائل
بَابُ الْحَيَّ عَلَى الْهَدِيَّةِ وَاسْتِحْبَاب قبولها وفَضْل الْمُهْدِى باب: ہدیہ دینے پر آمادہ کرنے، اس کو قبول کرنے کے مستحب ہونے اور ہدیہ دینے والے¤کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 6255
عَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ عَنْ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ فَلْيَقْبَلْهُ وَلَا يَرُدَّهُ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا خالد بن عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو سوال اور حرص کے بغیر اپنے بھائی کی طرف سے کوئی مال مل جائے، تو وہ اس کو قبول کر لے اور اس کو ردّ نہ کرے، کیونکہ وہ ایسا رزق ہے، جو اللہ تعالی نے اس کو عطا کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان دو احادیث میں انتہائی اہم بات یہ بیان کی گئی ہے کہ بندے کو لوگوں کے مال و زر سے مستغنی ہونا چاہیے اور کسی سے کوئی حرص اور لالچ نہیں رکھنی چاہیے، اور یہ اس وقت ہو گا جب آدمی اپنی استطاعت کے مطابق محنت و مشقت سے کام کرے اور اپنی تھوڑی کمائی کے مطابق گزارہ کر کے غیرت مند زندگی گزارنے کی کوشش کرے، ایسے میں اگر اس کو کسی طرف سے کوئی چیز مل جائے تو وہ کھلے دل کے ساتھ اس کو قبول کرے۔