الفتح الربانی
مسائل الهبة والهدية— ہبہ اور ہدیہ کے مسائل
بَابُ الْحَيَّ عَلَى الْهَدِيَّةِ وَاسْتِحْبَاب قبولها وفَضْل الْمُهْدِى باب: ہدیہ دینے پر آمادہ کرنے، اس کو قبول کرنے کے مستحب ہونے اور ہدیہ دینے والے¤کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 6254
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ آتَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رِزْقًا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَلْيَقْبَلْهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَأَلْتُ أَبِي مَا الْإِشْرَافُ قَالَ تَقُولُ فِي نَفْسِكَ سَيَبْعَثُ إِلَيَّ فُلَانٌ سَيَصِلُنِي فُلَانٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی جس کو بن مانگے رزق عطا کر دے، اس کو چاہیے کہ وہ اس کو قبول کر لے۔ عبد اللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ امام احمد سے سوال کیا: اشراف سے کیا مراد ہے؟ انھو ں نے کہا: تیرا اپنے دل میں یہ کہنا کہ فلاں آدمی میری طرف کوئی چیز بھیجے گا، فلاں آدمی (مجھے کوئی چیز دے کر) میرے ساتھ صلہ رحمی کا ثبوت دے گا۔