الفتح الربانی
مسائل الهبة والهدية— ہبہ اور ہدیہ کے مسائل
بَابُ الْحَيَّ عَلَى الْهَدِيَّةِ وَاسْتِحْبَاب قبولها وفَضْل الْمُهْدِى باب: ہدیہ دینے پر آمادہ کرنے، اس کو قبول کرنے کے مستحب ہونے اور ہدیہ دینے والے¤کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 6252
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مِنْ هَذَا الْمَالِ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْأَلَهُ فَلْيَقْبَلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی جس کو اس مال میں سے کچھ دے دے، جب کہ اس نے کسی سے سوال نہ کیا ہو تو وہ قبول کر لے، کیونکہ وہ ایسارزق ہے، جو اللہ تعالی نے اس کو عطا کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ہدیہ بھی اسی قسم کی ایک صورت ہے۔