الفتح الربانی
مسائل الهبة والهدية— ہبہ اور ہدیہ کے مسائل
بَابُ الْحَيَّ عَلَى الْهَدِيَّةِ وَاسْتِحْبَاب قبولها وفَضْل الْمُهْدِى باب: ہدیہ دینے پر آمادہ کرنے، اس کو قبول کرنے کے مستحب ہونے اور ہدیہ دینے والے¤کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 6251
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي قَالَ أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: میرے دو پڑوسی ہیں، میں کس کو ہدیہ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا دروازہ تجھ سے زیادہ قریب ہے۔
وضاحت:
فوائد: … قریبی پڑوسی کو ترجیح دینی چاہیے۔