الفتح الربانی
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز کی کتاب
باب وَعِيدِ مَنْ آوَى ضَالَةٌ وَلَمْ يُعْرِفُهَا باب: اس شخص کی وعید کا بیان جس نے گم شدہ چیز اٹھا لی اور اس کا اعلان نہ کیا
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رُمْحٌ فَكُنَّا إِذَا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ خَرَجَ بِهِ مَعَهُ فَيَرْكُزُهُ فَيَمُرُّ النَّاسُ عَلَيْهِ فَيَحْمِلُونَهُ فَقُلْتُ لَئِنْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَأُخْبِرَنَّهُ فَقَالَ إِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ لَمْ تُرْفَعْ ضَالَّةٌ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا ایک نیزہ تھا،جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں جاتے تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ اسے ساتھ لے جاتے اور اسے گاڑھ دیتے اور قصداً چھوڑآتے، لوگ اس کے پاس سے گزرتے اور اسے اٹھا لاتے۔ میں نے کہا: میں اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو میں اس کاروائی کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ضرور آگاہ کروں گا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے (قصداً) ایسا کرنا شروع کر دیا تو گم شدہ چیز کو نہیں اٹھایا جائے گا۔