حدیث نمبر: 6240
عَنْ مُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي جَرِيرٍ بِالْبَوَازِيجِ فِي السَّوَادِ فَرَاحَتِ الْبَقَرُ فَرَأَى بَقَرَةً أَنْكَرَهَا فَقَالَ مَا هَذِهِ الْبَقَرَةُ قَالَ بَقَرَةٌ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ فَأَمَرَ بِهَا فَطُرِدَتْ حَتَّى تَوَارَتْ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَأْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عبد اللہ بجلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بوازیج مقام پر اپنے باپ سیدنا ابو جریر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، اتنے میں ایک گائے چراگاہ کی طرف نکل آئی، جب انھوں نے یہ گائے دیکھی اور اس کی شناخت نہ کی تو کہا: یہ گائے کہاں سے آ گئی ہے؟ میں نے کہا: یہ ہماری گائیوں کے ساتھ مل گئی ہے، لیکن انھوں نے حکم دیا کہ اس کو دھتکار دیا جائے، پس ایسے ہی کیا گیا،یہاں تک کہ وہ چھپ گئی ، پھر انھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی آدمی گم شدہ جانور کو اپنے گھر میں جگہ دیتا ہے، جو گمراہ ہوتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللقطة / حدیث: 6240
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، الضحاك، قال علي بن المديني: لا يعرفونه، ثم انّ ابا حيان اضطرب فيه۔ أخرجه ابوداود: 1720، وابن ماجه: 2503، والنسائي: 2/ 432 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19209 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19422»