حدیث نمبر: 6238
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ الْتَقَطْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ دِينَارٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً فَعَرَّفْتُهَا سَنَةً ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ قَدْ عَرَّفْتُهَا سَنَةً فَقَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً أُخْرَى فَعَرَّفْتُهَا سَنَةً أُخْرَى ثُمَّ أَتَيْتُهُ فِي الثَّالِثَةِ فَقَالَ أَحْصِ عَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا وَاسْتَمْتِعْ بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: عہد ِ نبوی میں میں نے سو دینار اٹھا لیے (جوکہ کسی کے گم ہوئے تھے) اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اعلان کرو۔ میں نے ایک سال تک اعلان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر عرض کی کہ میں نے ایک سال اس کا اعلان کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مزید ایک سال اعلان کرو۔ پس میں نے مزید ایک سال اعلان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہا کہ میں نے مزید ایک سال تک اعلان کر دیا ہے، اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم ان کی تعداد شمار کر لو اور اس کا تسمہ پہچان لو اور ان سے فائدہ حاصل کرو۔

وضاحت:
فوائد: … مسند احمد کی ایک روایت میں تین سال اعلان کرنے کا ذکر ہے۔ پچھلے باب کی احادیث میں ایک سال کا اور اِن احادیث میں تین سال کا ذکر ہے، جمع و تطبیق کی صورتیںیہ ہیں: (۱) ایک سال تک اعلان کرنا ضروری ہے اور تین سالوں تک مستحبّ ہے، یعنی ایک سال کے بعد چیز کو استعمال تو کیا جا سکتا ہے، لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ مزید دو سالوں تک اعلان کیا جائے۔
(۲) عام چیز کا ایک سال تک اعلان کیا جائے گا اور قیمتی چیز کا تین سالوں تک۔
(۳) جو آدمی چیز کا استعمال کر لینے کے بعد مالک کے آ جانے کی صورت میں آسانی سے اس چیز کا اہتمام کر سکتا ہو، وہ ایک سال تک اعلان کرے اور جس کو یہ خطرہ ہو کہ اگر اس نے اس چیز کواستعمال کر لیا تو اس کا از سرِ نو اہتمام کرنا مشکل ہو جائے گا تو وہ تین برسوں تک اعلان کر لے، عام طور پر اتنے عرصے کے بعد اصل مالک کا آنا مشکل ہو جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللقطة / حدیث: 6238
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1723، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21169 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21488»