الفتح الربانی
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز کی کتاب
بَاب مَا جَاءَ فِي نُقْطَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَمَا جَاءَ فِي مَعْنَاهُمَا مِنَ الْأَمْتِعَةِ باب: سونے اور چاندی کی گری پڑی چیز اور اس طرح کے دوسرے سامان کا بیان
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ الْتَقَطْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ دِينَارٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً فَعَرَّفْتُهَا سَنَةً ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ قَدْ عَرَّفْتُهَا سَنَةً فَقَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً أُخْرَى فَعَرَّفْتُهَا سَنَةً أُخْرَى ثُمَّ أَتَيْتُهُ فِي الثَّالِثَةِ فَقَالَ أَحْصِ عَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا وَاسْتَمْتِعْ بِهَا۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: عہد ِ نبوی میں میں نے سو دینار اٹھا لیے (جوکہ کسی کے گم ہوئے تھے) اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اعلان کرو۔ میں نے ایک سال تک اعلان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر عرض کی کہ میں نے ایک سال اس کا اعلان کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مزید ایک سال اعلان کرو۔ پس میں نے مزید ایک سال اعلان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہا کہ میں نے مزید ایک سال تک اعلان کر دیا ہے، اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم ان کی تعداد شمار کر لو اور اس کا تسمہ پہچان لو اور ان سے فائدہ حاصل کرو۔
(۲) عام چیز کا ایک سال تک اعلان کیا جائے گا اور قیمتی چیز کا تین سالوں تک۔
(۳) جو آدمی چیز کا استعمال کر لینے کے بعد مالک کے آ جانے کی صورت میں آسانی سے اس چیز کا اہتمام کر سکتا ہو، وہ ایک سال تک اعلان کرے اور جس کو یہ خطرہ ہو کہ اگر اس نے اس چیز کواستعمال کر لیا تو اس کا از سرِ نو اہتمام کرنا مشکل ہو جائے گا تو وہ تین برسوں تک اعلان کر لے، عام طور پر اتنے عرصے کے بعد اصل مالک کا آنا مشکل ہو جاتا ہے۔