حدیث نمبر: 6236
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفْلَةَ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ فَقَالَا لِي اطْرَحْهُ فَقُلْتُ لَا وَلَكِنْ أُعَرِّفُهُ فَإِنْ وَجَدْتُ مَنْ يَعْرِفُهُ وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ فَأَبَيَا عَلَيَّ وَأَبَيْتُ عَلَيْهِمَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزَاتِنَا حَجَجْتُ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرْتُ لَهُ قَوْلَهُمَا وَقَوْلِي لَهُمَا فَقَالَ وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ عَرِّفْهَا حَوْلًا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا فَقَالَ عَرِّفْهَا حَوْلًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلَا أَدْرِي قَالَ لَهُ ذَلِكَ فِي سَنَةٍ أَوْ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ فَقَالَ لَهُ فِي الرَّابِعَةِ اعْرِفْ عَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا فَإِنْ وَجَدْتَ مَنْ يَعْرِفُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَزَادَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ فَلَقِيتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِمَكَّةَ فَقَالَ لَا أَدْرِي ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلًا وَاحِدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سویدین بن غفلہ کہتے ہیں: میں نے زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کی معیت میں غزوہ کیا، میں نے راستے میں ایک کوڑا پایا اور اس کو اٹھا لیا، لیکن انہوں نے مجھے کہا: یہ کوڑا پھینک دے، میں نے کہا: میں اسے نہیں پھینکوں گا، بلکہ اس کا اعلان کروں گا، اگر اس کو پہچان لینے والے مالک کو پا لیا تو اسے دے دوں گا،وگرنہ خود استعمال کر لوں گا، ان دونوں نے یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور میں نے بھی ان سے اتفاق نہ کیا، جب ہم غزوہ سے واپس آئے اورمیں حج کے لئے گیا تو میں مدینہ منورہ گیا اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان کو اُن دونوں کی اور اپنی بات بتلائی، انھوں نے آگے سے کہا: عہد ِ نبوی کی بات ہے، مجھے سو دیناروں پر مشتمل ایک تھیلی ملی تھی، جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور اس کے بارے میں ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ میں نے ایسا ہی کیا، لیکن ایسا کوئی شخص نہ ملا جو اس تھیلی کو پہچانتا ہو، اس لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ کوئی ایسا نہیں ملا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مزید ایک سال اعلان کرو۔ تین دفعہ ایسے ہی ہوا، راوی کہتا ہے: میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک سال میں (اعلان کرنے کا) کہا تھا یا تین برسوں میں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوتھی مرتبہ مجھے فرمایا: ان دیناروں کی تعداد اور اس تھیلی کے تسمے کو ذہن نشین کرلے اور اگر اس کےبعد اس کو پہچاننے والے کو پا لے تو اسے دے دینا، وگرنہ اس سے خود فائدہ اٹھا لینا۔ یہ الفاظ یحییٰ بن سعید کی حدیث کے ہیں، محمد بن جعفر نے اپنی بیان کردہ حدیث میں کہاہے کہ سیدنا شعبہ کہتے ہیں میں اس کے بعد سلمہ بن کہیل کو مکہ میں ملا اوران سے پوچھا تو انھوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ تین سال مراد ہیں یا ایک سال میں تین دفعہ اعلان کرنا مراد ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللقطة / حدیث: 6236
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2426، ومسلم: 1723 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21167 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21486»