حدیث نمبر: 6234
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ فَغَضِبَ وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ وَقَالَ مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا الْحِذَاءُ وَالسِّقَاءُ تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَجِيءَ رَبُّهَا وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ فَقَالَ خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ وَسُئِلَ عَنِ اللُّقْطَةِ فَقَالَ اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنِ اعْتُرِفَتْ وَإِلَّا فَخَالِطْهَا بِمَالِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (تیسری سند) سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے میں آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخسار سرخ ہوگئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے، اس کے ساتھ ہی اس کا جوتا اور پینا موجود ہے، وہ پانی پر وارد ہوتا رہے گا اور درختوں سے چرتا رہے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے پکڑ لو، کیونکہ وہ صرف تیرے لیے ہو گی،یا تیرے بھائی کے لیے،یا بھیڑیئے کے لیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی دوسری گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی اور بندھن کی شناخت کر لے، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کر، اگر مالک کا پتہ چل جائے تو ٹھیک، وگرنہ اسے اپنے مال میں شامل کرلے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللقطة / حدیث: 6234
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17176»