حدیث نمبر: 6232
عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ رَاعِي الْغَنَمِ قَالَ هِيَ لَكَ أَوْ لِلذِّئْبِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي ضَالَّةِ رَاعِي الْإِبِلِ قَالَ وَمَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا وَتَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي الْوَرِقِ إِذَا وَجَدْتُهَا قَالَ اعْلَمْ وِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَدَدَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ أَوِ اسْتَمْتِعْ بِهَا أَوْ نَحْوَ هَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے یا کسی آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گم شدہ بکری کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تیرے لیے ہے، یا پھر بھیڑیے کے لیے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! گم شدہ اونٹ کے بارے میں آپ کیا فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے تیرا کیا تعلق ہے، اس کا پینا اور جوتا اس کے پاس ہے اور وہ درختوں سے چرتا رہے گا (یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے گا)۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر مجھے گم شدہ چاندی مل جائے تو اس کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی، بندھن اور اس کی تعداد کو معلوم کر لے اور ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہ، اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دے، وگرنہ وہ تیری ہو گی،یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وگرنہ تو اس سے فائدہ اٹھا۔

وضاحت:
فوائد: … ۱۷۰۴۶ میں بحث
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللقطة / حدیث: 6232
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5292، ومسلم: 1722، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17037 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17163»