الفتح الربانی
مسائل الشفعة— شفعہ کے مسائل
بَابُ فِي أَيِّ شَيْءٍ تَكُونُ الشُّفْعَةُ وَلِمَنْ تَكُونُ باب: اس چیز کا بیان کہ کس چیز میں اور کس کے لیے شفعہ کا حق ہے
حدیث نمبر: 6230
عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضٌ لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شِرْكٌ وَلَا قَسْمٌ إِلَّا الْجِوَارَ قَالَ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے چیز خریدنے کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ ہر مشترک چیز میں حصہ دار کو شفعہ کرنے کا حق حاصل ہے، درج بالا احادیث میں اس چیز کا بھی ذکر ہے کہ پڑوسی کو بھی شفعہ کرنے کا حق حاصل ہے، اس امر کی وضاحت اگلے باب میں ہو گی۔ ان شاء اللہ