الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
الْفَصْلُ الثَّانِي فِيمَا رُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی بن ابو طالبؓ سے مروی حدیث کا بیان
حدیث نمبر: 623
عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ وَهُوَ فِي الرَّحْبَةِ فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ ثُمَّ شَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: هَذَا وَضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ، هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نزال بن سبرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک برتن لایا گیا، جبکہ وہ رحبہ میں تھے، انہوں نے پانی کا ایک چلو لیا، اس سے کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور اپنے چہرے، بازوؤں اور سر پر ہاتھ پھیر دیا اور کھڑے ہو کر ہی کچھ پانی پی لیا اور پھر انہوں نے کہا: ”یہ اس آدمی کا وضو ہے، جو بے وضو نہیں ہوا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا۔“
وضاحت:
فوائد: … ایسے معلوم ہوتا ہے کہ باوضو آدمی کا اس طرح وضو کرنے کا مقصد تازگی حاصل کرنا ہوتا ہے، جیسا کہ ہمارے ہاں بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ اگر ان کا وضو برقرار ہو تو وہ مسواک کر کے صرف ہاتھ منہ دھو لیتے ہیں۔