الفتح الربانی
مسائل الشفعة— شفعہ کے مسائل
بَابُ فِي أَيِّ شَيْءٍ تَكُونُ الشُّفْعَةُ وَلِمَنْ تَكُونُ باب: اس چیز کا بیان کہ کس چیز میں اور کس کے لیے شفعہ کا حق ہے
حدیث نمبر: 6229
عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضٌ لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شِرْكٌ وَلَا قَسْمٌ إِلَّا الْجِوَارَ قَالَ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا شرید بن سوید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! ایک زمین ہے، اس میں نہ تو کسی کی شراکت ہے اور نہ کسی کا کوئی حصہ ہے، البتہ صرف ہمسایہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی قریب ہونے کی وجہ سے زیادہ حق رکھتا ہے، وہ چیز جو بھی ہو۔