الفتح الربانی
مسائل الشفعة— شفعہ کے مسائل
بَابُ فِي أَيِّ شَيْءٍ تَكُونُ الشُّفْعَةُ وَلِمَنْ تَكُونُ باب: اس چیز کا بیان کہ کس چیز میں اور کس کے لیے شفعہ کا حق ہے
حدیث نمبر: 6223
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ لَا يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ فَإِنْ بَاعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يُؤْذِنَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ساجھی چیز میں شفعہ ہے، وہ گھر ہو یا باغ، ایک شریک کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ایسی چیز کو فروخت کر دے، یہاں تک کہ وہ اپنے شریک کو اس سے آگاہ کرے، اگر وہ شریک کو بتلائے بغیر فروخت کر دیتا ہے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا، یہاں تک کہ وہ اس کو خبر دے دے۔
وضاحت:
فوائد: … ایک روایت میں ہے: قَضَی النَّبِیُّV بِالشُّفْعَۃِ فِیْ کُلِّ شَیْئٍ۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چیز میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا ہے۔ (ابوداود: ۳۵۱۳، ترمذی: ۱۳۷۰)