حدیث نمبر: 622
عَنْ أَبِي مَطَرٍ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بَابِ الرَّحْبَةِ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَرِنِي وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الزَّوَالِ فَدَعَا قَنْبَرًا فَقَالَ: ائْتِنِي بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا فَأَدْخَلَ بَعْضَ أَصَابِعِهِ فِي فِيهِ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَاحِدَةً فَقَالَ: دَاخِلُهَا مِنَ الْوَجْهِ وَخَارِجُهَا مِنَ الرَّأْسِ، وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثًا وَلِحْيَتُهُ تَهْطِلُ عَلَى صَدْرِهِ ثُمَّ حَسَا حَسْوَةً بَعْدَ الْوُضُوءِ فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ كَذَا كَانَ وَضُوءُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو مطر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس مسجد میں رحبہ کے دروازے پر بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: ”آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کر کے دکھائیں،“ جبکہ یہ زوال کا وقت تھا، پس انہوں نے قنبر کو بلایا اور کہا: ”پانی کا برتن لاؤ،“ پس اپنی ہتھیلیاں اور چہرہ تین تین بار دھوئے اور تین کلیاں کیں، پھر بعض انگلیاں اپنے منہ میں ڈالیں اور تین بار ناک میں پانی چڑھایا اور تین دفعہ بازوؤں کو دھویا اور سر کا ایک دفعہ مسح کیا اور کہا: ”سر کا داخلی حصہ چہرے سے ہے اور خارجی حصہ سر ہے،“ پھر انہوں نے پاؤں کو ٹخنوں تک تین تین بار دھویا، اس وقت ان کی داڑھی ان کے سینے پر بوندیں ٹپکا رہی تھی، پھر انہوں نے وضو کے پانی میں سے ایک گھونٹ پانی پی لیا اور کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اس طرح ہوتا تھا۔“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 622
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف المختار بن نافع ولجھالة ابي مطر البصري ۔ أخرجه عبد بن حميد: 95 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1356 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1356»