الفتح الربانی
مسائل الغصب— غصب کے مسائل
بَاب دَفْعِ الصَّائِلِ وَإِنْ أَذًى إِلَى قَتْلِهِ وَأَنَّ الْمَصُولَ عَلَيْهِ يُقْتَلُ شَهِيدًا باب: حملہ کرنے والے کو روکنا، اگرچہ اس کو قتل کرنا پڑے اور اس لڑائی میں اگر وہ¤قتل ہو جائے جس پر حملہ کیا گیا تو وہ شہید ہو گا
عَنْ قَابُوسَ بْنِ الْمُخَارِقِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ أَتَانِي رَجُلٌ يَأْخُذُ مَالِي قَالَ تُذَكِّرُهُ بِاللَّهِ تَعَالَى قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ ذَكَّرْتُهُ بِاللَّهِ فَلَمْ يَنْتَهِ قَالَ تَسْتَعِينُ عَلَيْهِ بِالسُّلْطَانِ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ السُّلْطَانُ مِنِّي نَائِيًا قَالَ تَسْتَعِينُ عَلَيْهِ بِالْمُسْلِمِينَ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَحْضُرْنِي أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَعَجِلَ عَلَيَّ قَالَ فَقَاتِلْ حَتَّى تَحُوزَ مَالَكَ أَوْ تُقْتَلَ فَتَكُونَ فِي شُهَدَاءِ الْآخِرَةِ۔ سیدنا مخارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ،اس نے کہا: ایک آدمی میرے پاس آتا ہے اورمیرا مال لینا چاہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اللہ کا واسطہ دے۔ اس نے کہا: اگر میں اسے اللہ کا واسطہ دوں لیکن وہ باز نہ آئے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے خلاف حکمران سے مدد طلب کر۔ اس نے کہا: اگر حکمران دور ہو (اور اس تک رسائی ممکن نہ ہو)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے خلاف دوسرے مسلمانوں سے فریاد رسی کر۔ اس نے کہا: اگر وہاں کوئی مسلمان بھی نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھراس سے لڑ، یہاں تک کہ تو اپنے مال کی حفاظت کر لے یا آخرت کے شہداء میں سے ہو جائے۔