حدیث نمبر: 6217
عَنْ قَابُوسَ بْنِ الْمُخَارِقِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ أَتَانِي رَجُلٌ يَأْخُذُ مَالِي قَالَ تُذَكِّرُهُ بِاللَّهِ تَعَالَى قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ ذَكَّرْتُهُ بِاللَّهِ فَلَمْ يَنْتَهِ قَالَ تَسْتَعِينُ عَلَيْهِ بِالسُّلْطَانِ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ السُّلْطَانُ مِنِّي نَائِيًا قَالَ تَسْتَعِينُ عَلَيْهِ بِالْمُسْلِمِينَ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَحْضُرْنِي أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَعَجِلَ عَلَيَّ قَالَ فَقَاتِلْ حَتَّى تَحُوزَ مَالَكَ أَوْ تُقْتَلَ فَتَكُونَ فِي شُهَدَاءِ الْآخِرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا مخارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ،اس نے کہا: ایک آدمی میرے پاس آتا ہے اورمیرا مال لینا چاہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اللہ کا واسطہ دے۔ اس نے کہا: اگر میں اسے اللہ کا واسطہ دوں لیکن وہ باز نہ آئے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے خلاف حکمران سے مدد طلب کر۔ اس نے کہا: اگر حکمران دور ہو (اور اس تک رسائی ممکن نہ ہو)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے خلاف دوسرے مسلمانوں سے فریاد رسی کر۔ اس نے کہا: اگر وہاں کوئی مسلمان بھی نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھراس سے لڑ، یہاں تک کہ تو اپنے مال کی حفاظت کر لے یا آخرت کے شہداء میں سے ہو جائے۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں بڑی اہم باتیں بیان کی گئی ہیں کہ جو آدمی کسی کا مال چھیننا چاہے یا اس کو قتل کرنا چاہے تو اس کو اللہ تعالی کا واسطہ دیا جائے اور وعظ و نصیحت کی جائے، ممکن ہے کہ اس سے اس پر اثر ہو جائے اور وہ اپنے ناپاک ارادے سے باز آ جائے، اگر یہ طریقہ بے فائدہ ثابت ہو تو کسی طریقے سے حکمران کو اطلاع دی جائے، بصورت ِ دیگر عام مسلمانوں کو مدد کے لیے پکارا جائے، اگر تینوں صورتیں کارگر ثابت نہ ہوں تو پھر لڑائی کے ذریعے اپنا دفاع کیا جائے، اگر مظلوم قتل ہو گیا تو وہ حکماً شہید ہو گا، یعنی آخرت میں اس کو شہید سمجھا جائے گا، لیکن دنیا میں اس کو عام میت کی طرح غسل دے کر کفن دیا جائے گا اور نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الغصب / حدیث: 6217
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه النسائي: 7/ 113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22881»