الفتح الربانی
مسائل الغصب— غصب کے مسائل
بَابُ مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ وَمَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الثَّمَرِ أَوِ الزَّرْعِ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهِ باب: دوسروں کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر کھیتی کاشت کرنے والے اور مالکوں¤کی اجازت کے بغیر پھل یا کھیتی میں سے کچھ لینے والے کا بیان
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي عَنْ عَمِّ أَبِي رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَرْمِي نَخْلًا لِلْأَنْصَارِ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ إِنَّ هَا هُنَا غُلَامًا يَرْمِي نَخْلَنَا فَأُتِيَ بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا غُلَامُ لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ قَالَ قُلْتُ آكُلُ قَالَ فَلَا تَرْمِي النَّخْلَ وَكُلْ مَا سَقَطَ فِي أَسَافِلِهَا ثُمَّ مَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ۔ سیدنا رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک انصاری کی کھجوروں کو پتھر مار رہا تھا، جبکہ میں ابھی تک ایک لڑکا تھا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ لڑکا کھجوروں پر پتھر مار رہا ہے، پھر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے لڑکے! تو کھجوروں پر پتھر کیوں پھینک رہا تھا؟ میں نے کہا: جی میں کھانے کے لئے ایسا کر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھجوروں کو پتھر نہ مارنا، البتہ جو کھجوریں نیچے گری پڑی ہوں، وہ کھا لیا کر۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اے اللہ! اس کے پیٹ کو سیر کر دے۔