حدیث نمبر: 6210
عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلْتُ مَعَ سَادَتِي نُرِيدُ الْهِجْرَةَ حَتَّى أَنْ دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ فَدَخَلُوا الْمَدِينَةَ وَخَلَّفُونِي فِي ظَهْرِهِمْ قَالَ فَأَصَابَنِي مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ قَالَ فَمَرَّ بِي بَعْضُ مَنْ يَخْرُجُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَقَالُوا لِي لَوْ دَخَلْتَ الْمَدِينَةَ فَأَصَبْتَ مِنْ ثَمَرِ حَوَائِطِهَا فَدَخَلْتُ حَائِطًا فَقَطَعْتُ مِنْهُ قِنْوَيْنِ فَأَتَانِي صَاحِبُ الْحَائِطِ فَأَتَى بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرَهُ خَبَرِي وَعَلَيَّ ثَوْبَانِ فَقَالَ لِي أَيُّهُمَا أَفْضَلُ فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا فَقَالَ خُذْهُ وَأَعْطَى صَاحِبَ الْحَائِطِ الْآخَرَ وَخَلَّى سَبِيلِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمیر مولیٰ آبی اللحم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے آقاؤ ں کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ رہا تھا، جب ہم لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو میرے آقا ؤں نے مجھے پیچھے چھوڑ دیا اورخود مدینہ میں داخل ہوگئے، اب مجھے بڑی سخت بھوک لگی، مدینہ کی طرف جانے والے بعض لوگوں کا میرے پاس سے گزر ہوا، انھوں نے مجھے کہا: (تیری بھوک کا حل یہی ہے کہ) تو مدینہ میں داخل ہو جا اور کسی باغ کا پھل کھا لے، پس میں ایک باغ میں داخل ہوا اور دو گچھے کھجوروں کے توڑے ہی تھے کہ باغ کا مالک آ گیا اور مجھے پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میرے ساری بات بتلا دی، اس وقت میں نے دو کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ان دو کپڑوں میں سے کون سا کپڑا زیادہ اچھا ہے؟ میں نے ایک کی طرف اشارہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: یہ تو لے لے۔ اور دوسرا باغ کے مالک کو دے دیا اور مجھے جانے دیا۔

وضاحت:
فوائد: … ہم حدیث نمبر (۶۱۹۳) کے فوائد میںیہ وضاحت کر چکے ہے کہ محتاج آدمی مالک کی اجازت کے بغیر باغ سے کھا سکتا ہے، البتہ ساتھ اٹھا کر نہیں لے جا سکتا، لیکن اس حدیث کے مطابق تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے والے کو ذمہ دار ٹھہرایا اور اس کو ایک کپڑا دینے کا جرمانہ کیا، اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس آدمی اپنی ضرورت سے زیادہ کھجوریں توڑ لی تھیں، ایک گچھا اس کی حاجت کے لیے تھا اور دوسرے گچھے کے عوض آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کپڑا مالک کو دے دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الغصب / حدیث: 6210
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن۔ أخرجه الحاكم: 4/ 132، والطبراني في ’’الكبير‘‘17/ 127 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24942 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22288»