الفتح الربانی
مسائل الغصب— غصب کے مسائل
بَابُ مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ وَمَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الثَّمَرِ أَوِ الزَّرْعِ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهِ باب: دوسروں کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر کھیتی کاشت کرنے والے اور مالکوں¤کی اجازت کے بغیر پھل یا کھیتی میں سے کچھ لینے والے کا بیان
عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلْتُ مَعَ سَادَتِي نُرِيدُ الْهِجْرَةَ حَتَّى أَنْ دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ فَدَخَلُوا الْمَدِينَةَ وَخَلَّفُونِي فِي ظَهْرِهِمْ قَالَ فَأَصَابَنِي مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ قَالَ فَمَرَّ بِي بَعْضُ مَنْ يَخْرُجُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَقَالُوا لِي لَوْ دَخَلْتَ الْمَدِينَةَ فَأَصَبْتَ مِنْ ثَمَرِ حَوَائِطِهَا فَدَخَلْتُ حَائِطًا فَقَطَعْتُ مِنْهُ قِنْوَيْنِ فَأَتَانِي صَاحِبُ الْحَائِطِ فَأَتَى بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرَهُ خَبَرِي وَعَلَيَّ ثَوْبَانِ فَقَالَ لِي أَيُّهُمَا أَفْضَلُ فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا فَقَالَ خُذْهُ وَأَعْطَى صَاحِبَ الْحَائِطِ الْآخَرَ وَخَلَّى سَبِيلِي۔ سیدنا عمیر مولیٰ آبی اللحم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے آقاؤ ں کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ رہا تھا، جب ہم لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو میرے آقا ؤں نے مجھے پیچھے چھوڑ دیا اورخود مدینہ میں داخل ہوگئے، اب مجھے بڑی سخت بھوک لگی، مدینہ کی طرف جانے والے بعض لوگوں کا میرے پاس سے گزر ہوا، انھوں نے مجھے کہا: (تیری بھوک کا حل یہی ہے کہ) تو مدینہ میں داخل ہو جا اور کسی باغ کا پھل کھا لے، پس میں ایک باغ میں داخل ہوا اور دو گچھے کھجوروں کے توڑے ہی تھے کہ باغ کا مالک آ گیا اور مجھے پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میرے ساری بات بتلا دی، اس وقت میں نے دو کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ان دو کپڑوں میں سے کون سا کپڑا زیادہ اچھا ہے؟ میں نے ایک کی طرف اشارہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: یہ تو لے لے۔ اور دوسرا باغ کے مالک کو دے دیا اور مجھے جانے دیا۔