الفتح الربانی
مسائل الغصب— غصب کے مسائل
بَابُ مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ وَمَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الثَّمَرِ أَوِ الزَّرْعِ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهِ باب: دوسروں کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر کھیتی کاشت کرنے والے اور مالکوں¤کی اجازت کے بغیر پھل یا کھیتی میں سے کچھ لینے والے کا بیان
حدیث نمبر: 6209
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّهُ لَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ ظالم جڑ کا کوئی حق نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی نے غیر مملوکہ زمین آباد کی،یہ اس کی ملکیت ہو گی، اب کوئی دوسرا آدمی آ کراس کی اس زمین میں درخت لگا دیتا ہے، تاکہ اس کا قبضہ ہو جائے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ ظالم جڑ ہے اور اس کا کوئی حق نہیں ہے۔