الفتح الربانی
مسائل الغصب— غصب کے مسائل
بَابُ مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ وَمَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الثَّمَرِ أَوِ الزَّرْعِ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهِ باب: دوسروں کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر کھیتی کاشت کرنے والے اور مالکوں¤کی اجازت کے بغیر پھل یا کھیتی میں سے کچھ لینے والے کا بیان
حدیث نمبر: 6208
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ وَتُرَدُّ عَلَيْهِ نَفَقَتُهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی کی کھیتی میں اس کی اجازت کے بغیر کاشت کرتا ہے، تو اسے کھیتی کی پیداوار میں سے کچھ نہیں ملے گا، البتہ اس کا خرچ اسے واپس کر دیا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اسلام کے عدل اور انصاف پر غور کریں کہ جو آدمی ظلم کرتے ہوئے دوسرے کی زمین میں کوئی فصل کاشت کر دیتا ہے تو اس کو کاشت کے اخراجات واپس کیے جائیں گے، تاکہ اس کے ظلم کے عوض اس پر ظلم نہ ہو جائے، یہ اسلام کا ظالم کے ساتھ سلوک ہے، مظلوم کے بارے میں خود اندازہ کر لیں۔