الفتح الربانی
مسائل الغصب— غصب کے مسائل
بَابُ رَبِّ الْمَعْصُوبِ بِعَيْنِهِ إِنْ كَانَ بَاقِيًا ، وَقِيمَتِهِ إِنْ كَانَ مِنْ ذَوَاتِ الْقِيمِ أَوْ رَدِ مِثْلِهِ إِنْ كَانَ مِنْ ذَوَاتِ الأَمْثَالِ إِذَا أَتْلَفَهُ الْغَاصِبُ أَوْ تَلَفَ فِي يَدِهِ باب: غصب شدہ چیز ہی واپس کرنا، اگر وہ اسی حالت میں باقی ہو، یا اس کی قیمت ادا کرنا، اگر وہ قیمت والی ہو یا اس کے متبادل اس کی مثل واپس کرنا، اگر وہ مثل والی ہو، جب غاصب نے اس کو تلف کر دیا ہو یا وہ اس کے ہاتھ میں تلف ہو گئی ہو
حدیث نمبر: 6206
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ ثُمَّ نَسِيَ الْحَسَنُ قَالَ لَا يَضْمَنُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ جوکچھ لیتا ہے، وہ اس وقت تک اس کے ذمہ رہتا ہے، جب تک اس کو ادا نہیں کر دیتا۔ پھر حسن بصری بھول گئے تھے کہنے لگے کہ وہ ضامن نہیں ہوتا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو آدمی کسی کا مال عاریہ، امانت یا غصب کے طور پر لے لیتا ہے، وہ اس کو ادا کرنا پڑے گا، یہ مضمون دوسری احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ حسن بصری اپنی بیان کردہ حدیث کو بھول جانے کی وجہ سے یہ کہا کرتے تھے کہ عاریہ لینے والا ضامن نہیں ہوتا، لیکن ان کی بیان کردہ حدیث ان کے اس خیال کی تائید نہیں کرتی۔