الفتح الربانی
مسائل الغصب— غصب کے مسائل
بَاب مَنْ أَخَذَ شَاءً فَذَبَحَهَا وَشَوَاهَا أَوْ طَبَخَهَا بِغَيْرِإذن أَهْلِهَا باب: اس شخص کا بیان جس نے مالک کی اجازت کے بغیر بکری پکڑ کر اس کو ذبح کیا اور اس کو بھونا یا پکایا
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ وَمَرُّوا بِامْرَأَةٍ فَذَبَحَتْ لَهُمْ شَاةً وَاتَّخَذَتْ لَهُمْ طَعَامًا فَلَمَّا رَجَعَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا اتَّخَذْنَا لَكُمْ طَعَامًا فَادْخُلُوا فَكُلُوا فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَكَانُوا لَا يَبْدَءُونَ حَتَّى يَبْتَدِئَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لُقْمَةً فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُسِيغَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ شَاةٌ ذُبِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا لَا نَحْتَشِمُ مِنْ آلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَلَا يَحْتَشِمُونَ مِنَّا نَأْخُذُ مِنْهُمْ وَيَأْخُذُونَ مِنَّا۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ ایک عورت کے پاس سے گزرے، اس نے ان کے لئے بکری ذبح کی اور کھانا تیار کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹے تو اس عورت نے کہا: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کھانا تیار کیا ہے، لہٰذا آپ اندر تشریف لائیں اور کھانا کھائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اندر تشریف لے گئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اس وقت تک کھانا شروع نہ کرتے تھے، جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانے کا آغاز نہ کرتے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لقمہ لیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو نگل نہ سکے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بکری مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کی گئی ہے۔ اس عورت نے کہا! اے اللہ کے نبی!ہم اورآل بنی سعد ایک دوسرے سے بے تکلفانہ مراسم رکھتے ہیں (اور ایک دوسرے سے ناگواری محسوس نہیں کرتے) ، اس لیے ہم ان سے لیتے رہتے ہیں اور وہ ہم سے۔