حدیث نمبر: 6205
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ وَمَرُّوا بِامْرَأَةٍ فَذَبَحَتْ لَهُمْ شَاةً وَاتَّخَذَتْ لَهُمْ طَعَامًا فَلَمَّا رَجَعَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا اتَّخَذْنَا لَكُمْ طَعَامًا فَادْخُلُوا فَكُلُوا فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَكَانُوا لَا يَبْدَءُونَ حَتَّى يَبْتَدِئَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لُقْمَةً فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُسِيغَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ شَاةٌ ذُبِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا لَا نَحْتَشِمُ مِنْ آلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَلَا يَحْتَشِمُونَ مِنَّا نَأْخُذُ مِنْهُمْ وَيَأْخُذُونَ مِنَّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ ایک عورت کے پاس سے گزرے، اس نے ان کے لئے بکری ذبح کی اور کھانا تیار کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹے تو اس عورت نے کہا: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کھانا تیار کیا ہے، لہٰذا آپ اندر تشریف لائیں اور کھانا کھائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اندر تشریف لے گئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اس وقت تک کھانا شروع نہ کرتے تھے، جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانے کا آغاز نہ کرتے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لقمہ لیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو نگل نہ سکے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بکری مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کی گئی ہے۔ اس عورت نے کہا! اے اللہ کے نبی!ہم اورآل بنی سعد ایک دوسرے سے بے تکلفانہ مراسم رکھتے ہیں (اور ایک دوسرے سے ناگواری محسوس نہیں کرتے) ، اس لیے ہم ان سے لیتے رہتے ہیں اور وہ ہم سے۔

وضاحت:
فوائد: … اگرچہ ایسے جانور کے حلال ہونے کی گنجائش موجود ہے، تبھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں کو کھلا دینے کا حکم دیا تھا، لیکن عظیم المرتبت لوگوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ایسی چیز کھائیں، کیونکہ کسی مالک کی ملکیت سے کوئی چیز نکالنے کے لیے بے تکلفانہ مراسم کافی نہیںہے، بلکہ واضح طور پر رضامندی کا اظہار ہونا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الغصب / حدیث: 6205
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه الحاكم: 4/234 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14845»