الفتح الربانی
مسائل الغصب— غصب کے مسائل
بَاب مَنْ أَخَذَ شَاءً فَذَبَحَهَا وَشَوَاهَا أَوْ طَبَخَهَا بِغَيْرِإذن أَهْلِهَا باب: اس شخص کا بیان جس نے مالک کی اجازت کے بغیر بکری پکڑ کر اس کو ذبح کیا اور اس کو بھونا یا پکایا
عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَخْبَرَهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَلَمَّا رَجَعْنَا لَقِينَا دَاعِيَ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلَانَةً تَدْعُوكَ وَمَنْ مَعَكَ إِلَى طَعَامٍ فَانْصَرَفَ فَانْصَرَفْنَا مَعَهُ فَجَلَسْنَا مَجَالِسَ الْغِلْمَانِ مِنْ آبَائِهِمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جِيءَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَوَضَعَ الْقَوْمُ أَيْدِيَهُمْ فَفَطِنَ لَهُ الْقَوْمُ وَهُوَ يَلُوكُ لُقْمَةً لَا يُجِيزُهَا فَرَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَغَفَلُوا عَنَّا ثُمَّ ذَكَرُوا فَأَخَذُوا بِأَيْدِينَا فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَضْرِبُ اللُّقْمَةَ بِيَدِهِ حَتَّى تَسْقُطَ ثُمَّ أَمْسَكُوا بِأَيْدِينَا يَنْظُرُونَ مَا يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَفَظَهَا فَأَلْقَاهَا فَقَالَ أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا فَقَامَتِ الْمَرْأَةُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ فِي نَفْسِي أَنْ أَجْمَعَكَ وَمَنْ مَعَكَ عَلَى طَعَامٍ فَأَرْسَلْتُ إِلَى الْبَقِيعِ فَلَمْ أَجِدْ شَاةً تُبَاعُ وَكَانَ عَامِرُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ابْتَاعَ شَاةً أَمْسِ مِنَ الْبَقِيعِ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ أَنِ ابْتَغِ لِي شَاةً فِي الْبَقِيعِ فَلَمْ تُوجَدْ فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ شَاةً فَأَرْسِلْ بِهَا إِلَيَّ فَلَمْ يَجِدْهُ الرَّسُولُ وَوَجَدَ أَهْلَهُ فَدَفَعُوهَا إِلَى رَسُولِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَطْعِمُوهَا الْأُسَارَى۔ ایک انصاری صحابی بیان کرتے ہیں: ہم ایک جنازہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب واپس پلٹے تو ایک قریشی عورت کا داعی ہمیں ملا اور کہا: (اے اللہ کے رسول!) فلاں عورت آپ کو آپ کے ساتھیوں سمیت کھانے کے لیے بلا رہی ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہو لیے اور (گھر میں جا کر) اس طرح بیٹھ گئے، جیسے بچے اپنے باپوں کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، پھر کھانا لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھانے پر رکھا اور لوگوں نے بھی ایسے ہی کیا، لیکن لوگ سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک لقمے کو چبانا چاہتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے نہیں کر پا رہے، پس انھوں نے اپنے ہاتھ اٹھا لیے،اور ہم سے غافل ہو گئے، پھر جب ان کو یاد آیا تو ہمارے ہاتھوں کو پکڑ لیا، پھر ہرآدمی نے اپنے لقمے پر ہاتھ مارا اور وہ زمین پر گر پڑا، پھر انھوں نے اپنے ہاتھوں کو روک لیا اور دیکھنے لگ گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کرتے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لقمے کو پھینک دیا اور فرمایا: مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایسی بکری کا گوشت ہے، جو مالک کی اجازت کے بغیر لی گئی ہے۔ اب کی بار داعی عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا ارادہ یہ تھا کہ میں آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو کھانے پر جمع کروں، پس میں نے بقیع کی طرف آدمی کو بھیجا، لیکن وہاں فروخت کے لیے کوئی بکری نہ مل سکی، اُدھر عامر بن ابی وقاص کل بقیع سے ایک بکری خرید کر لائے تھے، میں نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ میرے لیے بھی بقیع سے کوئی بکری خرید لی جائے، لیکن کوئی بکری نہ ملی، پھر میں نے اس کی طرف پیغام بھیجا کہ تو نے جو بکری خریدی ہے، وہی میری طرف بھیج دو، لیکن وہ میرے قاصد کو نہ مل سکے، لیکن اس کے گھر والوں نے وہ بکری میرے قاصد کو دے دی،یہ تفصیل سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کھانا قیدیوں کو کھلا دو۔
(ابوداود: ۳۳۳۲)
علامہ عظیم آبادیk نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس بکری کا سودا صحیح نہیں تھا، کیونکہ عورت کے خاوند کی رضامندی شامل نہیں تھی، جو کہ اصل مالک تھا۔ یہ بیع فضولی سے ملتی جلتی ہے، جو مالک کی اجازت پر موقوف ہوتی ہے، بہرحال شبہ قوی ہے اور خود ایسا کھانا کھانا پسندیدہ نہیں ہے۔ (عون المعبود۲/ ۱۵۲۳)
یہ گوشت واضح طور پر حرام نہ تھا، کیونکہ مالک کو راضی کرناممکن تھا، اس لیے اسے قیدیوں کو کھلانے کا حکم دے دیا گیا۔ ہمیںیہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ مشکوک اورناجائز ماکولات و مشروبات سے اجتناب کرنا چاہیے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چبایا ہوا لقمہ بھی پھینک دیا، کیونکہ اس چیز کا بھی امکان تھا کہ اصل مالک راضی ہی نہ ہو۔