حدیث نمبر: 6203
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَنَا مَرْوَانُ انْطَلِقُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَ هَذَيْنِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَأَرْوَى بِنْتِ أُوَيْسٍ فَأَتَيْنَا سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَتَرَوْنَ أَنِّي قَدِ اسْتَنْقَصْتُ مِنْ حَقِّهَا شَيْئًا أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَذَ وَفِي لَفْظٍ مَنْ سَرَقَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ وَمَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَمَنِ اقْتَطَعَ مَالَ أَخِيهِ بِيَمِينِهِ فَلَا بَارَكَ اللَّهُ لَهُ فِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو سلمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مروان نے ہم سے کہا کہ جائیں اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ اور ارویٰ بنت اویس کے درمیان صلح کروائیں۔ جب ہم سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے ہمیں کہا: تمہارا کیا خیال ہے کہ میں نے ارویٰ کی زمین کا حصہ مار لیا ہے؟ میں نے تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو کوئی بغیر حق کے ایک بالشت کے بقدر کسی کی زمین ہتھیا لے گا یا چرا لے گا، اس کو سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا اور جس نے اجازت کے بغیر کسی قوم کو اپنا والی بنایا، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوگی اور جس نے قسم کے ذریعے اپنے بھائی کا مال چھین لیا، اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہیں کرے گا۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کا حدیث بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اروی اپنے بیان میں سچی نہیں ہے، انھوں نے نہ اس کی زمین ہتھیائی ہے اور نہ چرائی ہے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہا: اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَتْ کَاذِبَۃً فَاَعْمِ بَصَرَھَا وَاجْعَلْ قَبَرَھَا فِیْ دَارِھَا۔ … اے اللہ! اگر یہ اروی جھوٹی ہے تو اس کو اندھا کر دے اور اس کی قبر اس کے گھر کے اندر بنا دے۔ راوی کہتا ہے: پھر میں نے اس خاتون کو دیکھا کہ وہ اندھی ہو گئی اور دیوار کو چھو کر چلتی تھی اور کہتی تھی: سعید بن زید کی بد دعا مجھے لگ گئی ہے، ایک دن وہ اپنے گھر میں چل رہی تھی کہ گھر میں موجود کنویں میں گر پڑی اور وہی اس کی قبر ٹھہرا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الغصب / حدیث: 6203
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1649»