حدیث نمبر: 6201
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهُوَ يُخَاصِمُ فِي أَرْضٍ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبِ الْأَرْضَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور وہ زمین کے معاملے میں کسی سے جھگڑ رہے تھے، سیدہ نے کہا: اے ابو سلمہ! زمین کے معاملے میں احتیاط برتنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص ایک بالشت کے بقدر نا حق زمین ہتھیا لیتا ہے، اس کو سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا۔

وضاحت:
فوائد: … تمام احادیث ِ مبارکہ کا مضمون ہے کہ کسی کی معمولی مقدار میں زمین ہتھیا لینا بہت بڑا جرم ہے اور یہ گناہ بندے کی آخرت کو خسارے میں ڈال دینے والا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الغصب / حدیث: 6201
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2453، ومسلم: 1612، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24857»