الفتح الربانی
مسائل الغصب— غصب کے مسائل
بَابُ مَنِ اعْتَصَبَ أَوْ سَرَقَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ وَلَوْ قِيْدَ شير أو ذراع باب: زمین کو غصب کرنے یا اس کو چوری کرنے والے کا بیان، اگرچہ وہ ایک بالشت¤یا ایک ہاتھ کے برابر ہو
عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ بِالْيَمَنِ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضِي اغْتَصَبَهَا هَذَا وَأَبُوهُ فَقَالَ الْكِنْدِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضِي وَرِثْتُهَا مِنْ أَبِي فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَحْلِفْهُ أَنَّهُ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي وَأَرْضُ وَالِدِي وَالَّذِي اغْتَصَبَهَا أَبُوهُ فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ لِلْيَمِينِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَا يَقْتَطِعُ عَبْدٌ أَوْ رَجُلٌ بِيَمِينِهِ مَالًا إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ أَجْذَمُ فَقَالَ الْكِنْدِيُّ هِيَ أَرْضُهُ وَأَرْضُ وَالِدِهِ۔ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کندہ کے ایک شخص اور حضرموت کے ایک آدمی کے مابین یمن میں واقع ایک زمین کے معاملے میں جھگڑا ہو گیا، حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ زمین میری ہے، اس نے اور اس کے باپ نے اس پر ناجائز قبضہ کر لیاہے، کندہ کے باشندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ زمین میری ہے، مجھے اپنے باپ کے ورثے میں ملی ہے، حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے یہ قسم لے لیں کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ یہ میری اور میرے والد کی زمین ہے اور غصب کرنے والا اس کا باپ ہے۔اُدھر کندی قسم اٹھانے کے لئے تیارہو گیا، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص جھوٹی قسم کے ذریعے کس کا مال ہتھیا لے گا تو روز قیامت جب اس کی ملاقات اللہ تعالیٰ سے ہوگی تو اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہو گا۔ یہ فرمان سن کر کندی نے کہا: یہ زمین اس کی اور اس کے باپ کی ہے۔