الفتح الربانی
مسائل الغصب— غصب کے مسائل
بَابُ مَنِ اعْتَصَبَ أَوْ سَرَقَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ وَلَوْ قِيْدَ شير أو ذراع باب: زمین کو غصب کرنے یا اس کو چوری کرنے والے کا بیان، اگرچہ وہ ایک بالشت¤یا ایک ہاتھ کے برابر ہو
حدیث نمبر: 6197
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا خُسِفَ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ظلم کرتے ہوئے کسی کی زمین ہتھیا لیتا ہے، اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … دھنسایا جانا یا طوق پہنایا جانا معلوم ہوتا ہے۔ مختلف غاصب افراد کو مختلف سزائیں ملیں گی۔