الفتح الربانی
مسائل الغصب— غصب کے مسائل
بَابُ مَنِ اعْتَصَبَ أَوْ سَرَقَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ وَلَوْ قِيْدَ شير أو ذراع باب: زمین کو غصب کرنے یا اس کو چوری کرنے والے کا بیان، اگرچہ وہ ایک بالشت¤یا ایک ہاتھ کے برابر ہو
حدیث نمبر: 6196
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الظُّلْمِ أَعْظَمُ قَالَ ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ يَنْتَقِصُهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلَيْسَتْ حَصَاةٌ مِنَ الْأَرْضِ أَخَذَهَا إِلَّا طُوِّقَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى قَعْرِ الْأَرْضِ وَلَا يَعْلَمُ قَعْرَهَا إِلَّا الَّذِي خَلَقَهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا ظلم سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ہاتھ زمین، جسے آدمی اپنے بھائی کے حق سے چھین لیتا ہے،جو آدمی اس طرح کی ایک کنکری کے بقدر زمین ہتھیا لیتا ہے، قیامت کے دن اسے زمین کی گہرائی تک طوق پہنایا جائے گااور زمین کی گہرائی کو کوئی نہیں جانتا، مگر وہی جس نے اس کو پیدا کیا۔