حدیث نمبر: 6191
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَحُلَّ صِرَارَ نَاقَةٍ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا فَإِنَّهُ خَاتِمُهُمْ عَلَيْهَا فَإِذَا كُنْتُمْ بِقَفْرٍ فَرَأَيْتُمُ الْوَطْبَ أَوِ الرَّاوِيَةَ أَوِ السِّقَاءَ مِنَ اللَّبَنِ فَنَادُوا أَصْحَابَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا فَإِنْ سَقَاكُمْ فَاشْرَبُوا وَإِلَّا فَلَا وَإِنْ كُنْتُمْ مُرْمَلِينَ وَلَمْ يَكُنْ مَعَكُمْ طَعَامٌ فَلْيُمْسِكْهُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ ثُمَّ اشْرَبُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ مالکوں کی اجازت کے بغیر کسی اونٹنی کا دودھ بند کھولے، کیونکہ یہ اس جانور کے دودھ پر مہر کی حیثیت رکھتا ہے اور جب تم بے آباد جگہ میں ہو اور تم وہاں کوئی دودھ بھری مشک پاؤ تو وہاں اونٹ والوں کوتین مرتبہ آواز دو، اگر اس کا مالک تمہیں پینے کی اجازت دے تو پی لو، وگرنہ نہیں،اور اگر تم محتاج ہو اور تمہارے ساتھ کھانا نہ ہو تو تم میں سے دو آدمی اس کو پکڑ کر رکھیں اور پھر تم پی لو۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مالکوںکی اجازت کے بغیر مویشیوں کا دودھ دوہنے سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الغصب / حدیث: 6191
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف شريك النخعي۔ أخرجه مختصرا البيھقي: 9/ 360 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11419 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11439»