الفتح الربانی
مسائل الغصب— غصب کے مسائل
باب النهي عَنْ جِدِهِ وَهَزْلِهِ وَوَعِيدِ مَنِ اخْتَصَبَ مَالَ أخيه باب: جان بوجھ کر اور از راہِ مذاق غصب کی ممانعت اور مسلمان بھائی کا مال غصب کرنے کی وعید کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَحُلَّ صِرَارَ نَاقَةٍ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا فَإِنَّهُ خَاتِمُهُمْ عَلَيْهَا فَإِذَا كُنْتُمْ بِقَفْرٍ فَرَأَيْتُمُ الْوَطْبَ أَوِ الرَّاوِيَةَ أَوِ السِّقَاءَ مِنَ اللَّبَنِ فَنَادُوا أَصْحَابَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا فَإِنْ سَقَاكُمْ فَاشْرَبُوا وَإِلَّا فَلَا وَإِنْ كُنْتُمْ مُرْمَلِينَ وَلَمْ يَكُنْ مَعَكُمْ طَعَامٌ فَلْيُمْسِكْهُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ ثُمَّ اشْرَبُوا۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ مالکوں کی اجازت کے بغیر کسی اونٹنی کا دودھ بند کھولے، کیونکہ یہ اس جانور کے دودھ پر مہر کی حیثیت رکھتا ہے اور جب تم بے آباد جگہ میں ہو اور تم وہاں کوئی دودھ بھری مشک پاؤ تو وہاں اونٹ والوں کوتین مرتبہ آواز دو، اگر اس کا مالک تمہیں پینے کی اجازت دے تو پی لو، وگرنہ نہیں،اور اگر تم محتاج ہو اور تمہارے ساتھ کھانا نہ ہو تو تم میں سے دو آدمی اس کو پکڑ کر رکھیں اور پھر تم پی لو۔