الفتح الربانی
مسائل الغصب— غصب کے مسائل
باب النهي عَنْ جِدِهِ وَهَزْلِهِ وَوَعِيدِ مَنِ اخْتَصَبَ مَالَ أخيه باب: جان بوجھ کر اور از راہِ مذاق غصب کی ممانعت اور مسلمان بھائی کا مال غصب کرنے کی وعید کا بیان
عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ أَنْ يَأْخُذَ مَالَ أَخِيهِ بِغَيْرِ حَقِّهِ وَذَلِكَ لِمَا حَرَّمَ اللَّهُ مَالَ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَبِي وَقَالَ عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ثَنَا سُلَيْمَانُ حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَأْخُذَ عَصَا أَخِيهِ بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ وَذَلِكَ لِشِدَّةِ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَالَ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ۔ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کا مال ناحق طریقے سے لے۔ اس فرمان کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا مال حرام قرار دیا ہے۔ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ دوسری روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کی لاٹھی اس کی رضامندی کے بغیر لے۔ اس ارشاد کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سختی سے ایک مسلمان کے مال کو دوسرے مسلمان پر حرام قرار دیا ہے۔