حدیث نمبر: 6190
عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ أَنْ يَأْخُذَ مَالَ أَخِيهِ بِغَيْرِ حَقِّهِ وَذَلِكَ لِمَا حَرَّمَ اللَّهُ مَالَ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَبِي وَقَالَ عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ثَنَا سُلَيْمَانُ حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَأْخُذَ عَصَا أَخِيهِ بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ وَذَلِكَ لِشِدَّةِ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَالَ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کا مال ناحق طریقے سے لے۔ اس فرمان کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا مال حرام قرار دیا ہے۔ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ دوسری روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کی لاٹھی اس کی رضامندی کے بغیر لے۔ اس ارشاد کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سختی سے ایک مسلمان کے مال کو دوسرے مسلمان پر حرام قرار دیا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ارشاد ربانی ہے: {وَلَا تَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ} … ’’اپنے مالوں کو آپس میں باطل طریقے سے مت کھائو۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۸۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الغصب / حدیث: 6190
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه البزار: 3717، وابن حبان: 5978، والبيھقي: 9/ 358 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23605 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24003»