حدیث نمبر: 6187
عَنْ عَمْرِو بْنِ يَثْرِبِيٍّ الضَّمْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْتُ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى فَكَانَ فِيمَا خَطَبَ بِهِ أَنْ قَالَ وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ إِلَّا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ قَالَ فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَلِكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ لَقِيتُ غَنَمَ ابْنِ عَمِّي فَأَخَذْتُ مِنْهَا شَاةً فَاجْتَزَرْتُهَا هَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ شَيْءٌ قَالَ إِنْ لَقِيتَهَا نَعْجَةً تَحْمِلُ شَفْرَةً وَأَزْنَادًا فَلَا تَمَسَّهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمرو بن یثربی ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ میں موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو خطبہ دیا، اس میں یہ بھی فرمایا: کسی آدمی کے لئے اس کے بھائی کا مال حلال نہیں ہے، مگر وہ جو وہ خوشدلی سے دے دے۔ یہ سن کر میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ اس چیز کی وضاحت فرمادیں کہ میں اپنے بھتیجے کی بکریاں دیکھتا ہوں اور ان میں سے ایک پکڑ کر ذبح کر لیتا ہوں‘ کیایہ میرے لئے بوجھ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو بھیڑ بکری کو اس حال میں پاتا ہے کہ وہ چھری اور چقماق اٹھائے ہوئے ہو، پھر بھی اسے ہاتھ تک نہ لگانا۔

وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا مفہوم ہے کہ اگر بکری کے ساتھ ذبح کرنے کے آلات اور پھر اس کو بھوننے کا ساز و سا مان بھی موجود ہو تو پھر بھی تم اس کو نہیں لے سکتے۔ یہ عدمِ جواز میں مبالغہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الغصب / حدیث: 6187
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «شطره الاول صحيح لغيره، وھذا اسناده ضعيف، عماره بن حارثة الضمري انفرد بالرواية عنه عبد الرحمن بن ابي سعيد، وقد سقط من اسناد محمد بن عباد وذكره غيره، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان۔ أخرجه الدارقطني: 3/ 26، والطحاوي في ’’شرح المعاني‘‘: 4/ 241، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21082 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21397»