الفتح الربانی
مسائل الغصب— غصب کے مسائل
باب النهي عَنْ جِدِهِ وَهَزْلِهِ وَوَعِيدِ مَنِ اخْتَصَبَ مَالَ أخيه باب: جان بوجھ کر اور از راہِ مذاق غصب کی ممانعت اور مسلمان بھائی کا مال غصب کرنے کی وعید کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ يَثْرِبِيٍّ الضَّمْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْتُ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى فَكَانَ فِيمَا خَطَبَ بِهِ أَنْ قَالَ وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ إِلَّا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ قَالَ فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَلِكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ لَقِيتُ غَنَمَ ابْنِ عَمِّي فَأَخَذْتُ مِنْهَا شَاةً فَاجْتَزَرْتُهَا هَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ شَيْءٌ قَالَ إِنْ لَقِيتَهَا نَعْجَةً تَحْمِلُ شَفْرَةً وَأَزْنَادًا فَلَا تَمَسَّهَا۔ سیدنا عمرو بن یثربی ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ میں موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو خطبہ دیا، اس میں یہ بھی فرمایا: کسی آدمی کے لئے اس کے بھائی کا مال حلال نہیں ہے، مگر وہ جو وہ خوشدلی سے دے دے۔ یہ سن کر میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ اس چیز کی وضاحت فرمادیں کہ میں اپنے بھتیجے کی بکریاں دیکھتا ہوں اور ان میں سے ایک پکڑ کر ذبح کر لیتا ہوں‘ کیایہ میرے لئے بوجھ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو بھیڑ بکری کو اس حال میں پاتا ہے کہ وہ چھری اور چقماق اٹھائے ہوئے ہو، پھر بھی اسے ہاتھ تک نہ لگانا۔