الفتح الربانی
— کتاب
بابُ الْحِمَى لِدَواتِ بَيْتِ الْمَالِ باب: بیت المال کے جانوروں کے لئے چراگاہوں کا بیان
حدیث نمبر: 6185
عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَمَى النَّقِيعَ وَقَالَ لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناصعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نقیع مقام کو بطورِ چراگاہ خاص کیا اور فرمایا: اس طرح چراگاہ کو خاص کرنے کا حق صرف اللہ تعالی اور اس کے رسول کو ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے دو مفہوم بیان کیے جاتے ہیں: (۱) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو علاقے کسی کے لیے خاص قرار دیئے، بس ان ہی علاقوں کو خاص سمجھا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے، (۲) خلیفۂ راشد، جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم مقام ہوتا ہے، کو بھییہ حق حاصل ہے۔
دوسرا قول راجح ہے کہ خلیفۂ رسول کسی عام یا خاص مصلحت کے پیش نظر کوئی علاقہ کسی کو الاٹ کر سکتا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایسا کرتے رہے ہیں۔
دوسرا قول راجح ہے کہ خلیفۂ رسول کسی عام یا خاص مصلحت کے پیش نظر کوئی علاقہ کسی کو الاٹ کر سکتا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایسا کرتے رہے ہیں۔