عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ لِلزَّرْعِ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ وَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا أَعْطَى مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ أَعْطَاهُ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ لِلزَّرْعِ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ۔ عمرو بن عوف اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کو قبلیہ علاقے کی کانیں برائے جاگیر عنایت فرمادیں، اس مقام کی بلند اور پست زمین اور قدس پہاڑ میں جو کاشت کے قابل تھی، وہ سب انہیں دے دی تھی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو کسی مسلمان کا حق نہیں دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے حق میں یہ تحریر لکھی تھی: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ،یہ وہ زمین ہے، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو قبلیہ علاقے کی کانیں دی ہیں، اس مقام کی بلند اور پست زمین اور قدس پہاڑ میں جو کاشت کے قابل ہے، وہ ان کو دے دی ہے، جبکہ یہ کسی مسلمان کا حق نہیں تھا، جو ان کو دے دیا ہو۔
اس باب کی حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کان الاٹ کر دی، لیکن سیدنا ابیض رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کان جیسی چیز کسی خاص بندے کو الاٹ نہیں کرنی چاہیے، ان دو احادیث میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ کان کی دو قسمیں ہوتی ہیں: (۱) باطنی کانیں: یہ وہ کانیں ہوتی ہیں،جن کے حصول کے لیے محنت و مشقت درکار ہوتی ہے، مثلا لوہا اور تانبا وغیرہ۔ (۲) ظاہری کانیں: یہ وہ کانیں ہوتی ہیں، جن کے حصول کے لیے مشقت درکار نہیں ہوتی، جیسے نمک، تیل اور سرمہ وغیرہ۔ حکمران کسی کوباطنی کانیں تو الاٹ کر سکتا ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کو دی تھی، لیکن ظاہری کانیں کسی کو عنایت نہیں کرنی چاہئیں، تاکہ سارے لوگ برابر کا فائدہ حاصل کرسکیں اور ان پر کوئی تنگی نہ ہو، سیدنا ابیض رضی اللہ عنہ کی حدیث کا یہی مفہوم ہے۔