الفتح الربانی
— کتاب
بَابُ إِقْطَاعِ الأَرَاضِي باب: الاٹ کی ہوئی زمینوں اور چراگاہوں کے مسائل زمینیں الاٹ کرنے کا بیان
عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهُ أَرْضًا قَالَ فَأَرْسَلَ مَعِيَ مُعَاوِيَةَ أَنْ أَعْطِيهَا إِيَّاهُ أَوْ قَالَ أَعْلِمْهَا إِيَّاهُ قَالَ فَقَالَ لِي مُعَاوِيَةُ أَرْدِفْنِي خَلْفَكَ فَقُلْتُ لَا تَكُونُ مِنْ أَرْدَافِ الْمُلُوكِ قَالَ فَقَالَ أَعْطِنِي نَعْلَكَ فَقُلْتُ انْتَعِلْ ظِلَّ النَّاقَةِ قَالَ فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ مُعَاوِيَةُ أَتَيْتُهُ فَأَقْعَدَنِي مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ فَذَكَّرَنِي الْحَدِيثَ فَقَالَ سِمَاكٌ أَحَدُ الرُّوَاةِ فَقَالَ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ حَمَلْتُهُ بَيْنَ يَدَيَّ۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایک زمین الاٹ دی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ بھیجا کہ وہ مجھے یہ زمین دے سکیں یا اس کی نشاندہی کر سکیں۔ سیدنا وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اپنے پیچھے سوار کر لو، لیکن میں نے کہا: اے معاویہ! آپ بادشاہوں کے پیچھے سوار ہونے والوں (یا ان کے نائب بننے والوں میں سے) نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا: تو پھر مجھے اپنا جوتا دے دو (تاکہ میں زمین کی شدت سے بچ سکوں)، میں نے کہا: اونٹنی کے سائے میں چل لو۔ پھر جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے اورمیں ان کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا اور مجھے یہ بات یاد کرا دی، میں نے کہا: اب تو میں یہ پسند کر رہا ہوں کہ کاش آپ کو اپنے سامنے بٹھا لیتا۔