حدیث نمبر: 6179
عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهُ أَرْضًا قَالَ فَأَرْسَلَ مَعِيَ مُعَاوِيَةَ أَنْ أَعْطِيهَا إِيَّاهُ أَوْ قَالَ أَعْلِمْهَا إِيَّاهُ قَالَ فَقَالَ لِي مُعَاوِيَةُ أَرْدِفْنِي خَلْفَكَ فَقُلْتُ لَا تَكُونُ مِنْ أَرْدَافِ الْمُلُوكِ قَالَ فَقَالَ أَعْطِنِي نَعْلَكَ فَقُلْتُ انْتَعِلْ ظِلَّ النَّاقَةِ قَالَ فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ مُعَاوِيَةُ أَتَيْتُهُ فَأَقْعَدَنِي مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ فَذَكَّرَنِي الْحَدِيثَ فَقَالَ سِمَاكٌ أَحَدُ الرُّوَاةِ فَقَالَ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ حَمَلْتُهُ بَيْنَ يَدَيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایک زمین الاٹ دی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ بھیجا کہ وہ مجھے یہ زمین دے سکیں یا اس کی نشاندہی کر سکیں۔ سیدنا وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اپنے پیچھے سوار کر لو، لیکن میں نے کہا: اے معاویہ! آپ بادشاہوں کے پیچھے سوار ہونے والوں (یا ان کے نائب بننے والوں میں سے) نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا: تو پھر مجھے اپنا جوتا دے دو (تاکہ میں زمین کی شدت سے بچ سکوں)، میں نے کہا: اونٹنی کے سائے میں چل لو۔ پھر جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے اورمیں ان کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا اور مجھے یہ بات یاد کرا دی، میں نے کہا: اب تو میں یہ پسند کر رہا ہوں کہ کاش آپ کو اپنے سامنے بٹھا لیتا۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا وائل رضی اللہ عنہ حمیر کے شہزادے تھے اور اس وقت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مالی حالت درست نہ تھی، آداب اسلامی سے نا آشنائی اور تعلیمات دین سے عدم واقفیت کی بناء پر سیدنا وائل رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا، انسانی ہمدردی اور حسن سلوک کا تقاضا کچھ اور تھا، جبکہ بعد میں ان کو احساس بھی ہو گیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 6179
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3059 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27239 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27781»