الفتح الربانی
— کتاب
بَابُ إِقْطَاعِ الأَرَاضِي باب: الاٹ کی ہوئی زمینوں اور چراگاہوں کے مسائل زمینیں الاٹ کرنے کا بیان
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَتْ كَانَتْ زَيْنَبُ تَفْلِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَعْظُونٍ وَنِسَاءٌ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ يَشْكُونَ مَنَازِلَهُنَّ وَأَنَّهُنَّ يُخْرَجْنَ مِنْهُ وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِنَّ فِيهِ فَتَكَلَّمَتْ زَيْنَبُ وَتَرَكَتْ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّكِ لَسْتِ تَكَلَّمِينَ بِعَيْنَيْكِ تَكَلَّمِي وَاعْمَلِي عَمَلَكِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمَئِذٍ أَنْ يُوَرَّثَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ النِّسَاءُ فَمَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَوَرِثَتْهُ امْرَأَتُهُ دَارًا بِالْمَدِينَةِ۔ (دوسری سند)کلثوم کہتی ہیں: سیدہ زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جوئیں نکال رہی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی اور کچھ مہاجر خواتین بیٹھی ہوئی تھیں،یہ اپنے گھروں کے بارے میں شکایت کر رہی تھیں کہ (خاوند کی وفات کے بعد) ان کو گھروں سے نکال دیا جاتا ہے اور ان پر تنگی کر دی جاتی ہے، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک چھوڑ کر بات کرنے لگ گئیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے اپنی آنکھوں سے تو باتیں نہیں کرنی، بات بھی کرو اور اپنا کام بھی کرو۔ (یہ ساری باتیں سن کر) اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ عورتوں کو (ان کے مہاجر خاوندوں) کا وارث بنا یا جائے، پس جب سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ان کی اہلیہ ان کے مدینہ والے گھر کی وارث بنیں۔