الفتح الربانی
— کتاب
بَابُ إِقْطَاعِ الأَرَاضِي باب: الاٹ کی ہوئی زمینوں اور چراگاہوں کے مسائل زمینیں الاٹ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6174
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ حُضْرَ فَرْسِهِ بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا ثُرَيْرٌ فَأَجْرَى الْفَرَسَ حَتَّى قَامَ ثُمَّ رَمَى بِسَوْطِهِ فَقَالَ أَعْطُوهُ حَيْثُ بَلَغَ السَّوْطُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ثریر نامی زمین سے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو اتنی جگہ الاٹ کر دی، جہاں تک ان کا گھوڑا دوڑ سکے، پس انھوں نے گھوڑا دوڑایا،یہاں تک کہ جب وہ کھڑا ہو گیا تو انھوں نے اپنا کوڑا پھینک دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اتنی جگہ دے دو، جہاں تک اس کا کوڑا پہنچا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی اس زمین سے اپنے سر پر گٹھلیاں لاتی تھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو الاٹ کی تھی، وہ مجھ سے دو تہائی فرسخ کے فاصلے پر تھی۔ (صحیح بخاری: ۳۱۵۱، ۵۲۲۴)