حدیث نمبر: 617
عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ غَسْلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور تین دفعہ چہرہ دھویا، تین دفعہ ہاتھ دھوئے اور اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے پاؤں دھوئے۔

وضاحت:
فوائد: … احادیث ِ صحیحہ سے وضو کے ثابت ہونے والے احکام: وضو کا مسنون طریقہ: … ابتدا میں نیت کرنا، بسم اللہ پڑھنا، تین دفعہ ہاتھ دھونا اور انگلیوں کا خلال کرنا، تین دفعہ کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا اور یہ دونوں کام صرف ایک چلو سے کرنا، تین دفعہ چہرہ دھونا اور داڑھی کا خلال کرنا، تین دفعہ دایاںاور پھر بایاں بازو کہنیوں سمیت دھونا، سر اور کانوں کا ایک چلو پانی سے اس طرح مسح کرنا کہ دونوں ہاتھوں کو سر کے سامنے والے حصے سے گدی کی طرف لے جانا اور پھر پیشانی کی طرف واپس لے آنا اور کان کے اندرونی حصے کا انگشت ِ شہادت سے اور بیرونی حصے کا انگوٹھے سے مسح کر دینا، پھر تین دفعہ دایاں اور تین دفعہ بایاں پاؤں دھونا اور انگلیوں کا خلال کرنا، وضو کے بعد ایک چلو پانی شرمگاہ پر چھڑکنا اور مسنون دعائیں پڑھنا۔
ملحوظات: … تین دفعہ اعضا دھونا افضل ہے، اگر تمام اعضا ایک ایک یا دو دو بار دھوئے جائیں یا ایک وضو کے دوران کوئی عضو ایک دفعہ،کوئی دو دفعہ اور کوئی تین دفعہ دھویا جائے تو وضو درست ہو گا۔کلی کرتے وقت منہ میں پانی کو حرکت دی جائے اور سانس کے ذریعے ناک میں پانی چڑھا کر اسے سانس کے پریشر کے ذریعے باہر نکالا جائے، اور یہ دونوں کام ایک چلو پانی سے کیے جائیں، یعنی آدھے چلو سے کلی کی جائے اور آدھے سے ناک کی صفائی۔ سر پر مسح کرنے کے تین طریقے ہیں: مکمل سر پر، مکمل پگڑی پر اور سر کے اگلے حصے پر اور باقی پگڑی پر۔ سر کا مسح تین دفعہ کرنا بھی درست ہے۔ گردن اور اس کے پہلوؤں پر مسح کرنے کی کوئی قابل حجت دلیل نہیں ہے۔ جس حدیث میں وضو کے بعدانگلی اٹھانے کا ذکر ہے، وہ ضعیف ہے اور آسمان کی طرف دیکھنا بھی کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 617
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ۔ أخرجه ابن ماجه: 435 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 527 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 527»