الفتح الربانی
— کتاب
بَابُ الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاء فِي ثَلاثَ وَالنَّهْي عَنْ مَنْعِ فَضْلِ الْمَاءِ وَالْكَلَا وَشُرْبِ الْأَرْضِ الْعُنْيَا قَبْلَ السُّفْلَى إِذَا اخْتَلَفُوا باب: تین چیزوں میں مسلمانوں کے شریک ہونے، زائد پانی اور گھاس کو روک لینے سے منع کرنے اور اختلاف کی صورت میں نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین کو سیراب کر لینے کا بیان
حدیث نمبر: 6168
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَتَبَ إِلَى عَامِلٍ لَهُ عَلَى أَرْضٍ لَهُ أَنْ لَا تَمْنَعَ فَضْلَ مَاءٍ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَنَعَ فَضْلَ الْمَاءِ لِيَمْنَعَ بِهِ الْكَلَأَ مَنَعَ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَضْلَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنی زمین کے ایک عامل کو لکھا کہ زائد پانی سے کسی کو نہ روکنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے اس مقصد کے لیے زائد پانی کو روک لیاکہ گھاس کو روک لے، اللہ تعالی قیامت کے دن اس سے اپنا فضل روک لے گا۔