الفتح الربانی
— کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُحْيِي الْأَرْضَ بِغَرْسِ شَجَرٍ أَوْ حَفْرِ بَيْر فَمَاذَا يَكُونُ حَرَمُهَا؟ باب: جو آدمی درخت لگا کر یا کنواں کھود کر زمین کو آباد کرتا ہے، اس کی حد ملکیت کتنی ہو گی؟
حدیث نمبر: 6166
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي النَّخْلَةِ أَوِ النَّخْلَتَيْنِ أَوِ الثَّلَاثِ فَيَخْتَلِفُونَ فِي حُقُوقِ ذَلِكَ فَقَضَى أَنَّ لِكُلِّ نَخْلَةٍ مِنْ أُولَئِكَ مَبْلَغَ جَرِيدَتِهَا حَيِّزٌ لَهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک یا دو یا تین کھجور کے درختوں کے بارے میں یہ فیصلہ کیا تھا، جبکہ لوگ ان کے حقوق کے بارے میں اختلاف کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ یہ کیا کہ ہر کھجور کی ٹہنیاں جہاں تک پہنچ رہی ہیں، وہ جگہ اسی درخت کا احاطہ ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کھجور کے احاطے کے بارے میں دو آدمی جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ کھجور کے اس درخت کی پیمائش کی جائے، پس وہ سات ہاتھ نکلا، ایک روایت میں ہے کہ وہ درخت پانچ ہاتھ بلند تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مطابق فیصلہ کر دیا۔ (ابوداود: ۳۶۴۰)
کھجور کے احاطے کے بارے میںیہ دو روایات ہیں، ان میں جمع و تطبیق کی دو صورتیں ہیں: (۱) یہ دو مختلف واقعات ہیں اور جہاں جو ضابطہ مناسب ہو گا، اسی کے مطابق فیصلہ کر دیا جائے گا۔ (۲) سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث، سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تفسیر بیان کر رہی ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ کھجور کی ٹہنی کو ایک ہاتھ کے بقدر شکل دے کر اس کے ذریعے کھجور کی پیمائش کی جائے۔
پہلی صورت زیادہ مناسب ہے اور وہ اس طرح کہ لمبے درخت کا فیصلہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی روشنی میں اور چھوٹے درخت کا فیصلہ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث کی روشنی میں کیا جائے گا۔ یہ کھجور کے درخت کا احاطہ ہو گا، اگر کوئی دوسرا آدمی اس زمین سے مستفید ہونا چاہے تو اس کا حق اس احاطے کے بعد ہو گا۔
کھجور کے احاطے کے بارے میںیہ دو روایات ہیں، ان میں جمع و تطبیق کی دو صورتیں ہیں: (۱) یہ دو مختلف واقعات ہیں اور جہاں جو ضابطہ مناسب ہو گا، اسی کے مطابق فیصلہ کر دیا جائے گا۔ (۲) سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث، سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تفسیر بیان کر رہی ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ کھجور کی ٹہنی کو ایک ہاتھ کے بقدر شکل دے کر اس کے ذریعے کھجور کی پیمائش کی جائے۔
پہلی صورت زیادہ مناسب ہے اور وہ اس طرح کہ لمبے درخت کا فیصلہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی روشنی میں اور چھوٹے درخت کا فیصلہ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث کی روشنی میں کیا جائے گا۔ یہ کھجور کے درخت کا احاطہ ہو گا، اگر کوئی دوسرا آدمی اس زمین سے مستفید ہونا چاہے تو اس کا حق اس احاطے کے بعد ہو گا۔