الفتح الربانی
مسائل الوديعة والعارية— ودیعت اور عاریہ کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي ضَمَانِ الْوَدِيْعَةِ وَالْعَارِيَةِ باب: ودیعت اور عاریہ کے طور پر دی ہوئی چیزوں کی ضمانت کا بیان
حدیث نمبر: 6159
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اضْمَنُوا لِي سِتًّا مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَضْمَنْ لَكُمُ الْجَنَّةَ وَأَدُّوا إِذَا ائْتُمِنْتُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو، میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں، (ان میں سے ایک چیزیہ ہے)جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اسے ادا کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … باقی پانچ چیزیںیہ تھیں: ’’جب بات کرو تو سچ بولو، جب وعدہ کرو تو پورا کرو، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو، اپنی آنکھوں کو پست رکھو اور اپنے ہاتھوں کو روک لو۔‘‘