الفتح الربانی
مسائل الوديعة والعارية— ودیعت اور عاریہ کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي ضَمَانِ الْوَدِيْعَةِ وَالْعَارِيَةِ باب: ودیعت اور عاریہ کے طور پر دی ہوئی چیزوں کی ضمانت کا بیان
حدیث نمبر: 6157
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَةِ عَامِ حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْعَارِيَّةُ مُؤَدَّاةٌ وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ وَالزَّعِيمُ غَارِمٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع والے سال اپنے خطبے میں فرمایا: خبردار! عاریہ (عارضی طور پر لی ہوئی چیز) واپس کی جائے گی، مِنْحَہ (وہ عطیہ جو استفادہ کے لیے کچھ مدت کے لیے دیا جائےوہ) بھی واپس کیا جائے گا، قرضہ چکایا جائے گا اور چیز کا ضامن اس کی ادائیگی کا ذمہ دار ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … ’’عَارِیَۃٌ مَؤَدَّاۃٌ‘‘ اس چیز کو کہتے ہیں جو عارضی طور پر لی گئی ہو اور اس کے وقت تک اس کو واپس کرنا ضروری ہو، جب تک وہ باقی ہو، اگر ضائع ہو جائے تو اس کے عوض میں قیمت ادا نہیں کی جاتی اور ’’عَارِیَۃٌ مَضْمُوْنَۃٌ‘‘ اس چیز کو کہتے ہیں جو عارضی طور پر لی گئی ہو اس کو واپس کرنا ضروری ہو، اگر وہ تلف ہو جائے تو اس کی قیمت ادا کی جائے گی۔