حدیث نمبر: 6156
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَتْكَ رُسْلِي فَأَعْطِهِمْ أَوْ قَالَ فَادْفَعْ إِلَيْهِمْ ثَلَاثِينَ دِرْعًا وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا أَوْ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ الْعَارِيَّةُ مُؤَدَّاةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا صفوان بن یعلی رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ جب تیرے پاس میرے قاصد آئیں تو انہیں تیس یا اس سے کم زرہیں اور تیس یا اس سے کم اونٹ دے دینا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ ایسا عاریۃً ہے، جو قابل واپسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں ۔

وضاحت:
فوائد: … امانت یاعاریۃ چیز کی واپسی پر یہ حدیث دلالت کرتی ہے۔ چیز ہو تو وہی ادا کی جائے چیز تلف ہو جائے تو قیمت دی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الوديعة والعارية / حدیث: 6156
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 3566 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17950 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18114»