الفتح الربانی
مسائل الوديعة والعارية— ودیعت اور عاریہ کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي جَوَازِ الْعَارِيَةِ وَالتَّرْغِيبِ فِيهَا باب: عاریۃً چیز کے جائز ہونے اور اس میں رغبت دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 6151
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لَنَا يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا وَجَدْنَا مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا قَالَ حَجَّاجٌ يَعْنِي الْفَرَسَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ مدینہ منورہ میں خوف سا پیدا ہوگیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے عاریۃً ایک گھوڑا لیا، اس کو مندوب کہا جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واپس آ کر فرمایا: کوئی خوف والی بات نہیں ہے۔ ہم نے اس گھوڑے کو (تیز رفتاری میں)سمندر پایا تھا۔