الفتح الربانی
كتاب الإجارة— اجارہ کے مسائل
بَاب مَا يَجُوزُ الْاسْتَجَارُ عَلَيْهِ مِنَ النَّفْعِ الْمُبَاحِ باب: اجرت پر مباح نفع کمانے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 6150
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَمَةُ الْعَبْدِيُّ ثِيَابًا مِنْ هَجَرَ قَالَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَاوَمَنَا فِي سَرَاوِيلَ وَعِنْدَنَا وَزَّانُونَ يَزِنُونَ بِالْأُجْرَةِ فَقَالَ لِلْوَزَّانِ زِنْ وَأَرْجِحْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سوید بن قیس کہتے ہیں، میں اور مخرمہ عبدی ہجر کے علاقہ سے کپڑا لائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے شلوار کا سودا کیا، جبکہ ہمارے پاس اجرت پر وزن کرنے والے لوگ بھی موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک وزن کرنے والے سے فرمایا: اس کا وزن کرو اور ترازو کا یہ والا پلڑا جھکاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جائز کاموں کی اجرت لینا درست ہے۔