الفتح الربانی
كتاب الإجارة— اجارہ کے مسائل
بابُ مَا جَاءَ فِي الْأُجْرَةِ عَلَى الْقُرَبِ باب: اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے جانے والے نیک اعمال کی اجرت کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نَقْرَأُ فِينَا الْعَرَبِيُّ وَالْعَجَمِيُّ وَالْأَسْوَدُ وَالْأَبْيَضُ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتُمْ فِي خَيْرٍ تَقْرَءُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُثَقِّفُونَهُ كَمَا يُثَقِّفُونَ الْقِدْحَ يَتَعَجَّلُونَ أُجُورَهُمْ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهَا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ ہم قرآن مجید پڑھ رہے تھے، ہم میں عرب اور عجم اور کالے اور سفید لوگ موجود تھے، اتنے میں اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: تم خیر و بھلائی پر ہو، اللہ تعالی کی کتاب پڑھ رہے ہو اور اللہ کے رسول تمہارے اندر موجود ہیں، عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ وہ ادائیگی کے لحاظ سے تو قرآن مجید کے الفاظ کو اس طرح سیدھا ادا کریں گے، جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن وہ اس کے اجر کو جلدی حاصل کریں گے اور آخرت تک اس میں تاخیر نہیں کریں گے۔