الفتح الربانی
كتاب الإجارة— اجارہ کے مسائل
بابُ مَا جَاءَ فِي الْأُجْرَةِ عَلَى الْقُرَبِ باب: اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے جانے والے نیک اعمال کی اجرت کا بیان
حدیث نمبر: 6141
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ وَلَا تَغْلُوا فِيهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی تلاوت کرو اور اس کوکھانے کا ذریعہ نہ بناؤ اور نہ ہی اس کے ذریعہ مال کی کثرت طلب کرو، اس کی تلاوت سے نہ دوری اختیار کرواور نہ اس کے بارے میں غلوّ میں پڑو۔
وضاحت:
فوائد: … آخری دو جملوں کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن مجید کے سلسلے میں اعتدال اختیار کیا جائے اور افراط و تفریط سے بچا جائے، نہ اس طرح ہونے پائے کہ آدمی اس کی تلاوت سے دور ہو جائے اور نہ یہ صورت صحیح ہے کہ آدمی غلوّ کرتے ہوئے اس کی حدود سے تجاوز شروع کر دے۔