الفتح الربانی
كتاب الإجارة— اجارہ کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي أُجْرَةِ الْحَجَامِ باب: سینگی لگانے والے کی اجرت کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ حَجَمَهُ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ وَكَانَ أَجْرُهُ مُدًّا وَنِصْفًا فَكَلَّمَ أَهْلَهُ حَتَّى وَضَعُوا عَنْهُ نِصْفَ مُدٍّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا وَفِي لَفْظٍ سُحْتًا مَا أَعْطَاهُ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گردن کی دو رگوں میں اور دوکندھوں کے درمیان سینگی لگوائی، بنو بیاضہ کے ایک غلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سینگی لگائی تھی، اس کی اجرت ڈیڑھ مد تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے مالکوں سے رعایت کی بات کی تو انھوں نے نصف مد کم کر دیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس غلام کو سینگی لگانے کی اجرت دی تھی، اگریہ حرام ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو نہیں دینی تھی۔