حدیث نمبر: 6134
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جُعْتُ مَرَّةً بِالْمَدِينَةِ جُوعًا شَدِيدًا فَخَرَجْتُ أَطْلُبُ الْعَمَلَ فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ قَدْ جَمَعَتْ مَدَرًا فَظَنَنْتُهَا تُرِيدُ بَلَّهُ فَأَتَيْتُهَا فَقَاطَعْتُهَا كُلَّ ذَنُوبٍ عَلَى تَمْرَةٍ فَمَدَدْتُ سِتَّةَ عَشَرَ ذَنُوبًا حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ ثُمَّ أَتَيْتُ الْمَاءَ فَأَصَبْتُ مِنْهُ ثُمَّ أَتَيْتُهَا فَقُلْتُ بِكَفَّيَّ هَكَذَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَبَسَطَ إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ أَحَدَ الرُّوَاةِ يَدَيْهِ وَجَمَعَهُمَا فَعَدَّتْ لِي سِتَّ عَشْرَةَ تَمْرَةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَكَلَ مَعِي مِنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ جب میں مدینہ میں تھا، مجھے بہت سخت بھوک لگی، پس میں کسی کام کی تلاش میں مدینہ منورہ کے بالائی حصہ کی جانب نکلا، اچانک میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ مٹی جمع کر چکی تھی اور اب اس کو گارا بنانا چاہتی تھی، میں اس کے پاس آیا اور اس سے ایک ایک ڈول کے بدلے ایک ایک کھجور لینے کا طے کیا، پس میں نے کنوئیں سے پانی کے سولہ ڈول کھینچے ، ان کی وجہ سے میرے ہاتھوں پر چھالے پڑ گئے، پھر میں نے وہ پانی لا کر مٹی پر ڈالا اور پھر اس خاتون کے پاس آیا مزدوری لینے کے لیے اس کے سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلادیں، اسماعیل راوی نے کیفیت بیان کرنے کے لیے اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور جمع کیا، پس اس عورت نے گن کر سولہ کھجوریں مجھے دیں، پس میں وہ کھجوریں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتلائی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ساتھ وہ کھجوریں کھائیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإجارة / حدیث: 6134
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، مجاھد بن جبر لم يسمع عليا۔ أخرجه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1135 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1135»