حدیث نمبر: 6133
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْنَا وَعَلَيْنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَأَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ فَمَرُّوا عَلَى قَوْمٍ قَدْ نَحَرُوا جَزُورًا فَقُلْتُ أُعَالِجُهَا لَكُمْ عَلَى أَنْ تُطْعِمُونِي مِنْهَا شَيْئًا فَعَالَجْتُهَا ثُمَّ أَخَذْتُ الَّذِي أَعْطَوْنِي فَأَتَيْتُ بِهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ عُمَرُ بْنَ الْخَطَّابِ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ ثُمَّ إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي فَتْحِ مَكَّةَ فَقَالَ أَنْتَ صَاحِبُ الْجَزُورِ فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ يَزِدْنِي عَلَى ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے ایک غزوہ کیا، اس میں ہمارے امیر سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ تھے، ہوا یوں کہ ہم سخت بھوک میں مبتلا ہوگئے، ہم ایک قوم کے پاس سے گزرے، انھوں نے اونٹ ذبح کئے ہوئے تھے۔ میں (عوف) نے ان سے کہا: اگر تم مجھے بھی ان میں سے کھلاؤ تو میں تمہیں ان کا گوشت وغیرہ بنا کر دے سکتا ہوں؟انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، چنانچہ میں نے ان کاکام کیا اورانہوں نے مجھے کھانے کے لیے کچھ دیا، میں وہ لے کر سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، لیکن انہوں نے تو کھانے سے انکار کردیا، پھر میں سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، لیکن انہوں نے بھی کھانے سے انکارکردیا، پھر جب فتح مکہ کے موقع پر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ اونٹوں والے تم ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! اس سے زائد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا۔

وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ سیدنا عمر اور سیدنا ابو عیبدہdکے نہ کھانے کی وجہ یہ ہو کہ سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے بھوک برداشت کرنے پر صبر نہیں کیا، ایک روایت میں ہے کہ انھوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ساری تفصیل بتائی تو انھوں نے کہا: اسمعک قد تعجلت اجرتک۔ … ’’میں تیرے بارے میں سن رہا ہوں کہ تو نے جلدی جلدی اپنا اجر لے لیا ہے۔ پھر جب سیدنا عوف رضی اللہ عنہ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح اور کامیابی کی خوشخبری دینے کے لیے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کیے پر انکار نہیں کیا، بہرحال سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے جائز کام کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإجارة / حدیث: 6133
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده جيد۔ أخرجه الطبراني: 18/ 131، والبيھقي في ’’الدلائل‘‘: 6/ 308 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23978 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24478»