الفتح الربانی
كتاب الإجارة— اجارہ کے مسائل
بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ الْإِجَارَةِ باب: اجارہ کی مشروعیت کا بیان
حدیث نمبر: 6132
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ اسْتِئْجَارِ الْأَجِيرِ حَتَّى يُبَيَّنَ لَهُ أَجْرُهُ وَعَنِ النَّجْشِ وَاللَّمْسِ وَإِلْقَاءِ الْحَجَرِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدوری کا تعین کرنے سے پہلے مزدور کو کام پر لگانے سے، بیع نجش سے، بیع لمس سے اور پتھر پھینکنے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بیع نجش اور بیع لمس کی وضاحت پہلے ہو چکی ہے، پتھر پھینکنے سے مراد کنکریوں کی بیع ہے، اس کی وضاحت بھی پہلے ہو چکی ہے۔